نئی دہلی،24؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بدھ کو یوم کسان کے موقع پر ملک میں اپوزیشن لیڈروں نے دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ پر مجبور کسانوں سے یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اورزرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے مطالبے کو دہرایا ہے۔ واضح رہے کہ بدھ کو کسان لیڈر چودھری چرن سنگھ کا یوم پیدائش تھا جس کو ملک میں کسان دیوس کے طور پر منایا جاتاہے۔
افسوس کہ کسانوں کو احتجاج کرنا پڑرہاہے: پوار: این سی پی صدر شرد پوار نے مودی سرکار کی بے حسی کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات افسوس ناک ہے کہ جن کسانوں کی عزت افزائی کی جانی چاہئے تھی وہ کسان دیوس پر اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سابق وزیر زرعت نے کسانوں کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرتےہوئے انہیں جلد انصاف ملنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’یہ حزب اقتدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسانوں کی تعظیم کرے جومعیشت کا اہم حصہ ہیںمگر افسوس کہ اب ملک کے کسانوں کو اپنے حق کیلئے احتجاج کرنا پڑرہاہے۔‘‘
ممتا بنرجی کی سرحد پر خیمہ زن کسانوں سے گفتگو : مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے دہلی کی سرحدوں پر خیمہ زن کسانوں سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر انہیں اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے جب ٹی ایم سی لیڈر نے مظاہرہ کررہے کسانوں سے فون پر گفتگو کی ہے۔ اس کے علاوہ ترنمول کانگریس کے ۵؍ اراکین پارلیمان نے سنگھو بارڈر پر پہنچ کر کسانوں کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا۔
حکومت کسانوں کی توہین کرنا بند کرے: اکھلیش: یوپی کے سابق وزیرعلیٰ اکھلیش یادو نے کسانوں کو ملک کیلئے باعث فخر قراردیتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسانوں کی توہین کرنا بند کرے۔ چودھری چرن سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اکھلیش یادو نےکہا ہے کہ ’’آج بی جےپی کے دور اقتدار میں ملک کی تاریخ میں ایسا کسان دیوس منایا جارہاہے جب کسان جشن منانے کے بجائے سڑکوں پر اپنے حق کیلئے احتجاج کرنےپر مجبور ہیں ۔‘‘
کیرالا کے وزیراعلیٰ پنارئی وجین جو بدھ کو اسمبلی میں کسانوں کی حمایت میں قرارداد منظور کرنا چاہتے تھے، نے بھی کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتےہوئے حکومت کو ان کے مطالبات منظور کرنے کی صلاح دی ہے۔ کیرالا کے گورنر نے اسمبلی اجلاس طلب کرنے سے منع کردیاہے۔
راہل گاندھی کی صدر سے ملاقات: اس بیچ کانگریس صدر راہل گاندھی جمعرات کو زرعی قوانین کے خلاف ۲؍ کروڑ دستخطوں کے ساتھ صدر جمہوریہ سے ملاقات اور کسانوں کے مطالبات کی تائید کریں گے۔
گفتگو کیلئے تیار ہیں،حکومت کوئی پختہ تجویز تو پیش کرے: کسان یونین: جمعرات کو کسانوں کے احتجاج کا 29؍ واں دن ہوگا مگر اب تک ان کے مطالبات منظور نہیں کئے گئے۔ 6؍ مرتبہ کی ناکام بات چیت کے بعد بات چیت میں بھی تعطل پیدا ہوگئی ہے۔ حکومت یہ کہہ کر بات چیت میں تعطل کیلئے کسانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہتی ہے کہ وہ جب چاہیں تب مرکزی حکومت مزید بات چیت کیلئے تیار ہے مگر دوسری طرف بدھ کو کسان یونینوں نے پریس کانفرنس کرکے اعلا ن کیا ہے کہ وہ بات چیت کیلئے تیار ہیں مگر حکومت کی جانب سے کوئی پختہ تجویز تو پیش کی جائے۔ کسان لیڈر شیوکمار ککا کے مطابق’’ہم پہلے ہی حکومت کے سامنے واضح کرچکے ہیں کہ کسان متنازع قوانین میں ترمیم سے مطمئن نہیں ہوں گے۔‘‘